سری نگر،23؍نومبر(ایس او نیوز؍یو این آئی) جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے ڈی ڈی انتخابات میں سرکاری مشینری کے مبینہ غلط استعمال اور پارٹی کے امیدواروں کو کسی بھی قسم کی انتخابی مہم چلانے سے روکنے کے اقدامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح سے بی جے پی زمینی سطح پر بنا کسی بنیاد کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے اس سے محسوس یہ ہو رہا ہے کہ انتظامیہ کو اسی کام میں لگا دیا گیا ہے۔
پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں ایسا کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے کہ صرف کسی مخصوص جماعت یا نظریہ رکھنے والوں کو ہی سیکورٹی فراہم کی گئی ہو بلکہ انتخابات میں ہر ایک کو سیکورٹی فراہم کی جاتی تھی اور سیاسی لیڈران اور کارکنان آرام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ پاتے تھے لیکن اس بار انتظامیہ نہ صرف امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے اجتناب کر رہی ہے بلکہ جو کوئی بھی کاغذات نامزدگی داخل کرتا ہے اُسے سیکورٹی کے نام پر کسی مخصوص جگہ پر قید کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے سوال کیا کہ اگر حالات اتنے ہی خراب تھے اور حکومت امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو ایسی صورتحال میں انتخابات کا انعقاد کیوں کیا گیا؟ ایسے انتخابات کا کیا مقصد جس میں امیدوار اپنے ووٹروں سے ووٹ مانگنے کی بھی پوزیشن میں نہ ہوں؟
نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ بی جے پی لیڈران ڈی سی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کر رہی ہے جبکہ زمینی سطح پر اس جماعت کی یہاں کوئی بنیاد نہیں۔ کیا انتظامیہ غیر بی جے پی جماعتوں کے امیدوروں کو سیکورٹی کے نام پر قید و بند میں رکھ کر بی جے پی کے لئے راہ ہموار کرنے میں لگی ہوئی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سری نگر میونسپل کونسل کی 4 نشستوں پر ضمنی انتخابات 28 نومبر کو ہونے طے ہیں اور ضابطہ اخلاق کی دھجیان اڑا کر میئر کے انتخاب کی تاریخ 25 نومبر رکھی گئی۔ کیا میئر کے انتخاب میں 4 نشستوں کے ووٹوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ ضمنی انتخابات کے بیچوں بیچ میئر کے انتخابات کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی انتظامیہ کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے۔ یہ سب کچھ کس کی ایما پر کیا جارہا ہے اور انتظامیہ بی جے پی کی لونڈی کا کردار کیوں نبھا رہی ہے؟
نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کو جنگی بنیادوں پر تمام امیدواروں کے لئے مساوی بنیادوں پر سیکورٹی فراہم کرنی چاہئے اور ہر کسی کو انتخابی سرگرمی کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ نہیں تو یہ انتخابات بے معنی ہوکر رہ جائیں گے۔